Justuju Tv جستجو ٹی وی


The All New Justuju Web TV Channel

کلام و کائنات مصور: مخزن غزلیات میں خوش آمدید

Showing posts with label Kalaame Musavvir. Show all posts
Showing posts with label Kalaame Musavvir. Show all posts

Sunday, April 5, 2009

درسِ ارتقاء

شیوہء عجز تا کجا، کفر کے التفات پر

توڑ قیودِ بندگی، مالک و تاجدار بن



درسِ ارتقاء*


پیکرِ نور کبریا مسلم وحدت آشنا

ظلمت کفر کو مٹا، دین کا پاسدار بن

دلمیں اگر ہے ہر گھڑی، عزم سکونِ سرمدی

جادہء جبر ہی پہ تو منزلِ اختیار بن

کر نہ کسی پہ تو عیاں، عالم کیفِ جاوداں

حسن کا پردہ دار ہو، عشق کا رازدار بن

پھونکدے اسکو، پھونکدے، جو بھی سوائے دوست ہے

اپنے ہی سوزِ قلب کا نغمہء ساز گار بن

عزم بلند و پست سے ذوقِ ادائے مست سے

دامنِ کوہسار میں مستیءآبشار بن

غنچہء آرزو کھلا، عشق کو خونِ دل پلا

خوئے نسیمِ باغ ہو، رنگِ رُخِ بہار بن

تجھکو مٹا بھی دے، اگر گردشِ چرخ غم نکر

دیدہء روزگار میں سرمہء اعتبار بن

فصلِ بہار کیطرح، شمع مزار کی طرح

اپنا ہی غمگسار ہو، اپنا ہی سوگوار بن

فصلِ خزاں کے غم میں، تو روتا ہے کس لیے لہو

گلشنِ کائنات میں حاملِ صد بہار بن

خاک ہوا تو کیا ہوا، محوِ حدودِ ماسوا

رہکے تَعُیّنات میں اپنا ہی خود حصار بن

تَو جو نہیں، نہیں سہی وجہ نشاطِ زندگی

ہستی بے ثبات میں عبرتِ پائیدار بن

تجھ میں ہے گر صلاحیّتِ محو سرورِ معرفت

ساغرِ زندگی تو بادہء بے خمار بن

تارِ نفس کو توڑ دے، دل اسی سمت موڑ دے

شیوہ ء نبندگی سے تو بندہء کردگار بن

موت کو زندگی سمجھ، مٹنے کو بندگی سمجھ

صفحہء کائنات پر حاصلِ یادگار بن

شیوہء عجز تا کجا، کفر کے التفات پر

توڑ قیودِ بندگی، مالک و تاجدار بن

محوِ نیاز تابکے، مائل کبر و تاز ہو

اپنی ہی قدر جان کچھ، دہر میں سرفراز ہو

بن زمانہِ کی نگاہونمیں نہ عبرت کا سبب

دیکھ اپنی سعی ء لاحاصل کو تو حاصل نہو

ورنہ اکدن تیری ہستی دہر سے مٹ جائیگی

غیر کی قسمت ضیائے علم سے چمکائیگی


اس کلام کا عنوان خود مصور صاحب کا تجویز کردہ ہے*




حرماں نصیب

محرومیاں چمن کی ہمیں یاد آئینگی

پہنیں گے ہم گلے میں جو پھولونکا ہار بھی

* * *

حرماں نصیب

حرماں نصیبوں میں وہ اختر شماریاں*

برہم تھی محفلِ فلکِ کج مدار بھی

ملتا ہے اس کو چین مرے اضطراب میں

کیا شاملِ فلک ہے دل بیقرار بھی

اک تیرے ٹوٹنے سے حبابِ شکستہء دل

ٹوٹا طلسم ہستی بے اعتبار بھی

بربادیء چمن کا جو نقشہ نظر میں تھا

سمجھے خزاں ہم اسکو جو آئی بہار بھی

محرومیاں چمن کی ہمیں یاد آئینگی

پہنیں گے ہم گلے میں جو پھولونکا ہار بھی

یاد آئینگے ہر ایک کو مٹنے کے حوصلے

ہوگا حریف عزم نہ اپنا غبار بھی

ہم جبر و اختیار کا مطلب سمجھ گئے

کچھ جبر دلپہ کیجیے کچھ اختیار بھی

ہر دم خیالِ خاطرِ احباب آئیگا

آسودہ ہم رہینگے نہ زیرِ مزار بھی

اتنا تو جانتے ہیں مگر ہم خزاں نصیب

ہوتی ہے کوئی فصلِ چمن میں بہار بھی

صبحِ وطن نہیں ہے، وہ شامِ وطن نہیں

کیا چیز ہے اُمّیدِ غریبِ دیار بھی

ہونے دو شام غم کی مصور ذرا سحر

آئینگے راہ پر مرے لیل و نہار بھی

آسان اردو – جستجو میڈیا

حِرمان نصیب= (اسمِ کیفیت)- مایوسی، محرومی، غم و اندوہ جس کی قسمت میں ہو

واقفِ راز


واقفِ راز

واقفِ رازِ حدود *رہ امکاں ہوکر

تک رہی ہے مرا منہ عقل بھی حیراں ہوکر


جاگزیں دل میں ہیں اب آنکھ سے پنہاں ہوکر

ہم رہے بعد فنا داغِ عزیزاں ہوکر


یادگار شب غم بھی نرہی وقتِ سحر

شمع گُل ہوگئی افسانہء ہجراں ہوکر


نفس تازہ ہے اس کے لیے پیغام اجل

ہر گھڑی آتی ہے محرومیء انساں ہوکر


یادِ ایّامِ گزشتہ ہے یہ تجھ سے امّید

کبھِی آتا تو مری موت کا عنواں ہوکر


مٹ گیا ہائے وہ احساس بھی دلکا یارب

اب کہیں کا نرہا، قابلِ درماں ہوکر


کیا مٹایا جو زمانہ نے مٹایا ہمکو

لوحِ عالم پہ نمایاں رہے پنہاں ہوکر


کبھی اڑتی نظر آئیگی مری خاکِ لحد

ایک افسانہء نیرنگیء دوراں ہوکر


کم نگاہی سے سمجھتا ہے فلک پست مجھے

ہوں سرِ عرش غبار رہ امکاں ہوکر



آسان اردو – جستجو میڈیا

عالَمِ اِمْکان، رہ امکاں(اسم) راس:عالَمِ اِمْکان*
کائنات ۔ ۔ ۔


Sunday, March 29, 2009

گوشہ گیر



میں مصور یوں محیطِ دہر ہوں

گوشہ گیری نے مجھے عنقا کیا



گوشہ گیر

یہ علوئے آفرینش اور میں

سوچتا ہوں کیوں مجھے پیدا کیا


صورتِ آئینہ تھے ذرّات دل

اِن میں کچھ اندازہء صحرا کیا


اُس میں پنہاں تھا سکون زندگی

دل نے تڑپایا تو میں تڑپا کیا


ٹوٹتے ساغر کو دیکھا خود بخود

جب خیالِ حرُمتِ صہبا کیا


وہ ادائے فرض کی تمہید تھی

میں نے وعدہ بھی اگر ایفا کیا


کارفرما روح ہر ذرّے میں تھی

مین نے جب رازِ حیات افشا کیا


روح کی وہ حُرّیت اب کیا ہوئی

ہم نے جنس بے بہا کو کیا کیا


جادہء ملک عدم کو بھی یہاں

میں حصارِ عافیت سمجھا کیا


دامنِ رحمت کی وسعت دیکھکر

کائناتِ دل کو میں دیکھا کیا


میں مصور یوں محیطِ دہر ہوں

گوشہ گیری نے مجھے عنقا کیا


آسان اردو – جستجو میڈیا

صَہْبا[صَہ (فتحہ ص مجہول) + با]عربی

اسم  نکرہ -  مؤنث - واحد   
شرابِ سرخ نیز انگور سفید کی شراب؛ مطلق شراب۔


عَنْقا[عَن + قا]-عربی

لمبی گردن والا، ایک فرضی افسانوی پرندہ، بعض کے نزدیک سیمرغ۔

دَہْر-دَہْر

دنیا، کائنات۔

حُرْمَت[حُر + مَت]-عربی

عزت آبرو، بڑائی، عظمت، پاکیزگی۔

آفْرِینِش[آف + ری + نِش]-فارسی

دنیا،کائنات، جو کچھ خدا نے خلق کیا۔ پیدائش، تخلیق، پیدا ہونا، عدم سے وجود میں آنا۔

گوشَہ گِیر(صفت) راس:گوشَہ گِیر
تنہائی میں رہنے والا، خلوت نشیں، سب سے الگ رہنے والا، تارک الدنیا۔ ۔ ۔ ۔



عالم اسلام کو اسلام کا پیام



وہ تو اب ہے کہ تجھکو ننگِ ہستی جانتے ہیں سب

کبھی وہ تھا کہ خود تجھ سے شرف تھا بزم دنیا کو





عالم اسلام کو اسلام کا پیام

ارے اے مسلم غفلت فروش اے پیکرِ عبرت

یہ غم کچھ بھی نہیں ہے یاد کر آلامِ فردا کو


زمانِ حال کی اہمیتوں سے تجھکو کیا مطلب

نظر آتا ہے مستقبل ترا ہر چشمِ بینا کو


وہ غیرت کیا ہوئی تیری حمیت کیا ہوئی تیری

سمجھتا ہے جو مرجع دین کا دیر و کلیسا کو


حریم دل میں کعبے کی بنا کی تھی کبھی قائم

کبھی آنکھوں میں دیتا تھا جگہ تو خاک بطحا کو


وہ تو اب ہے کہ تجھکو ننگِ ہستی جانتے ہیں سب

کبھی وہ تھا کہ خود تجھ سے شرف تھا بزم دنیا کو


یہ مانا خاک ہونا ہے، تجھے برباد ہونا ہے

ابھی سے پست کربیٹھا ہے اپنے عزمِ بالا کو


یہ کیا قطرے کو بھی سیلاب ہی اب تو سمجھتا ہے

وہ جوہر تجھ میں تھا جو جذب کرلیتا تھا دریا کو


ترے دم سے کبھی تھا منضبط شیرازہء ملّت

اور اب تفریق مذہب کا سبق دیتا ہے دنیا کو


وہ فن یورپ میں ہے جسکے ترے اسلاف بانی تھے

خلاف دین سمجھتا ہی رہا تو علم الاشیاء کو


کبھی اے خاکِ اندلس، خونِ مسلم تجھ میں مضمرتھا

کیا تھا تو نے پابند حرم، اہل کلیسا کو


ابھی باطل کی گو چھائی ہوئی ہیں ظلمتیں تجھ پر

مگر پھر نورِ حق چمکیگا تجھ میں کروٹیں لیکر

نوٹ: اس کلام کا عنوان جناب مولانا مصور کا تجویزکردہ ہے



Saturday, March 28, 2009

خطاب بہ بلبلِ ہند



خطاب بہ
بلبلِ ہند


آج ہنس ہنس کے یہ گلہائے چمن کہتے ہیں

سن تو کیا تجھسے محبان وطن کہتے ہیں


جان احرار جوارِ باب وطن کہتے ہیں

سرو آزاد تجھے اہلِ چمن کہتے ہیں


تو گلستانِ سیاست کی گلِ خوبی ہے

بلبلِ ہند تجھے اہلِ وطن کہتے ہیں


باغباں ہو کہ گلچیں کہ چمن میں صیاد

تجھکو گلِ پیرہن و غنچہ دہن کہتے ہیں


یہ سمجھتے ہیں کہ تجھ میں ہے فقط بوئے وفا

سب تجھے غیرتِ صد مشک ختن کہتے ہیں


وقت ایسا ہی کچھ آیا ہے کہ سب اہلِ وطن

آہ و فریاد میں اسرارِ محن کہتے ہیں


ہم کبھی جسکو مسرت کا چمن کہتے تھے

آج صد حیف اسے بیتِ حزن کہتے ہیں


اختلافات کی یہ آندھیاں، اللہ، اللہ

ہوچکا ہند کا برباد چمن کہتے ہیں


تجھسے امیدیں ہیں وابستہ، تجھے بلبلِ ہند

جان حریت و دلدارِ وطن کہتے ہیں


اعتماد آج بھی ہے، ملک کو تجھپر اتنا

مرحبا تجھکو دم عرضِ سخن کہتے ہیں


کوئی بیدرد اگر درپئے آزادی ہو

ہم اسے معتقدِ طوق و رسن کہتے ہیں


رنج کیا اچھونمیں ہوتے ہیں برے بھی دوچار

ہنسکے ہم اسکو بھی نیرنگِ زمن کہتے ہیں


ہفت سیارونمیں مریخ و زحل بھی ہیں شریک

ہم اسے سنتِ رفتار کہن کہتے ہیں


مسئلہ یہ نہیں موصل کا، مگر ہند کا ہے

ہاں اسے روکشِ بغداد و عدن کہتے ہیں


سرخروئی نہ کبھی غیر کو ہوگی حاصل

اسکے ہر ذرے کو ہم لعلِ یمن کہتے ہیں


اٹھ کے پھر ہاتھ میں لے تو علمِ حریت

ہے یہ سہرا ترے سر اہلِ وطن کہتے ہیں


تجھکو یورپ سے ہوا ہند کی لے آئی ہے

ہاں اسے حسرتِ پرواز چمن کہتے ہیں


شانِ ماضی نظر آجائے ہمیں حال میں پھر

پھر کہیں ہم اسے احساسِ وطن کہتے ہیں


پھر وہی نعرہء تکبیر فضا میں گونجے

کہ مصیبت زدہ یہ وقتِ محن کہتے ہیں


اتفاق آج ہے ہر قول پہ تیرے سبکو

ابھی جو کہدے وہی اہلِ وطن کہتے ہیں


لاکھ پیچیدہ مسائل ہیں سیاست کے مگر

تجھسے سلجھینگے یہ اوصافِ حسن کہتے ہیں


بات کچھ بھی نہیں ہو شانہء اخلاص کی خیر

ہم اسے زلفِ پریشاں کی شکن کہتے ہیں


قامع بغض و حسد تو ہے کہ تجھ میں ہے خلوص

ہاں تجھے ما حئی اشرار و فطن کہتے ہیں


آفریں اب بھی یہ ثابت قدمی تیری ہے

تیرے ہر عزم کو البرزشکن کہتے ہیں


آج بھی دیکھتے ہیں تجھ میں وہی استقلال

مستقل تجکو جو احرارِ وطن کہتے ہیں


وہ بھی تھا وقت کہ تھا ہندو مسلم میں فساد

اہل بینش اسے اب رسمِ کہن کہتے ہیں


مثل یک جان دوقالب ہوں جو پھر دونوں فریق

کہیں دشمن بھی اسے حب وطن کہتے ہیں


ایک ہوں ہندو مسلم تو کہیں گلچیں سے

دیکھ اسے وحدت نسرین و سمن کہتے ہیں


وہ بھی دن آئے کہ شوخی سے کہیں گنگا کو

دیکھ زاہد اسے ہم نہر لبن کہتے ہیں


خوش ہوں وہ بھی جنھیں کہتے ہیں رئیس الاحرار

وہ بھی خوش ہوں جنھیں سالارِ وطن کہتے ہیں


آج بچھڑے ہوئے پھر آئو گلے ملجائیں

ہو مبارک یہی آثارِ زمن کہتے ہیں


رہرو اب کہیں ہمت کا نہ دامن چھوٹے

آگے اک اور بھی منزل ہے کٹھن کہتے ہیں


آفتاب آج طلوع ہوگیا آزادی کا

افقِ ہند پہ اب جلوہ فگن کہتے ہیں


اپنے مرکز پہ جو قائم نہیں احرارِ وطن

مصلحت بین انہیں اعدائے وطن کہتے ہیں


نکتہ چینی کا نہیں وقت، یہ ہے کام کا وقت

اب سیاست کے یہی ماہرِ فن کہتے ہیں


ہم سے ارباب مخالف کو شکایت ہو تو ہو

ہم مصور اسے اعجاز سخن کہتے ہیں





نوٹ: اس کلام کا عنوان خود جناب مصور نے تجویز کیا ہے

آسان اردو – جستجو میڈیا

بلبل ہند= سروجنی نائیڈو کا ایک معروف لقب

قامِع[قا + مِع]عربی


صفت  ذاتی
توڑنے والا، خاتمہ کرنے والا۔

Design & Content Managers

Design & Content Managers
Click for More Justuju Projects