Justuju Tv جستجو ٹی وی


The All New Justuju Web TV Channel

کلام و کائنات مصور: مخزن غزلیات میں خوش آمدید

Showing posts with label Justuju. Show all posts
Showing posts with label Justuju. Show all posts

Friday, March 27, 2009

صدائے مسلم



صدائے مسلم



نظامِ عالمِ امکاں میں آگیا ہے خلل

ذرا جو مرکزِ اصلی سے ہٹ گیا ہوں میں


کسی کو اپنی زباں سے وہ کہہ نہیں سکتا

جو   انقلاب ہر اک شے میں دیکھتا ہوں میں


بنا پڑی ہے زمانے میں استقامت کی

جب اپنی لغزش پا سے سنبھل گیا ہوں میں


نہیں ہے باعثِ تشویش بیکسی میری

خود اپنے ٹوٹے ہوئے دل کا آسراہوں میں


ہر ایک ذرّے کا سینہِ میں درد رکھتا ہوں

وہ بے نوا ہوں، کہ عالم کا ہمنوا ہوں میں


مرے ہی نغمے فضا میں سنائی دیتے ہیں

اگرچہ دہر میں اک سازِ بے صداہوں میں


نہاں نظامِ دو عالم ہے میری فطرت

کہ ایک حجت آئین کبریا ہوں میں


مرا ہی نام نمایاں ہے لوحِ عالم پر

کبھِی حمایت حق میں جو مٹ گیا ہوں میں


بلند پرچم اسلام ہو، یہ مقصد ہے

مٹارہا ہے جہاں، اور مٹ رہا ہوں میں


وفورِ سختیء دنیا، تجھے خدا کی قسم

مجھے نہ توڑ کہ آئینہء وفا ہوں میں


مٹا رہے ہیں مجھے لوگ، کیا قیامت ہے

جہاں میں پرتو انوارِ مصطفیٰ ہوں میں


شعاعِ موت سے یورپ ڈرا رہا ہے مجھے

خبر نہیں ہے کہ پروردہء فنا ہوں میں


رہِ طلب میں ہے مٹنا ہی افتخار مرا

فنا کے روپ میں اک مژدہء بقا ہوں میں


وہ تنکا ہوں کہ اجل نے مری حفاظت کی

کبھی جو سیلِ حوادث میں آگیا ہوں میں


ہرایک ذرہ مری خاک کا یہ کہتا ہے

رہِ نیاز میں اک وحدت آشنا ہوں میں


یہ کسکی یاد میں تم ہورہے ہو سربسجود

یہ کائنات کے ذرّوں سے پوچھتا ہوں میں


کسی کے در سے طلب کیا کروں، معاذاللہ

کہ خود ہی باعث تکمیل مدعا ہوں میں


مرے سکون سے چھا جائیگا جہاں پہ جمود

وہ کائنات کی گردش کا منتہا ہوں میں


ہر ایک ذرے میں ہے جوش زن مرا ہی لہو

ہر انتہائے محبت کی ابتدا ہوں میں


جبینِ کفر سے اسلام ضوفشاں ہوگا

اگرچہ منظرِ ہستی سے مٹ رہا ہوں میں


مرے ہی خون سے نکہرے گا رنگ ملّت کا

نویدِ واقعہء دشتِ کربلا ہوں میں


جہاں سے ہستی باطل کو یوں مٹادونگا

نقاب چہرہء حق سے ذرا اٹھادونگا



* * *



اٹھ! اور اٹھکر زمانے کو اٹھا کچھ کر نہ کوتاہی

کہ گردشِ کررہا ہے سر پہ اب تاجِ شہنشاہی

* * *

نوٹ: اس کلام کا عنوان خود مصور صاحب کا تجویز کردہ ہے



Friday, March 20, 2009

خاکی - نستعلیق ورژن

سلام دوستو۔
اس ویب بک میں تمام کلام اردو یونی کوڈ فارمیٹ میں شائع کیا جارہا ہے۔ تاہم، کاغذی ورژن نستعلیق رسم الخط میں شائع کیا جائے گا۔
مندرجہ ذیل نسخہ اس بارے میں آپ کے تخیّل کو سہولت فراہم کرتا ہے۔ اس امیج کو بڑا کرکے دیکھنےکے لیے اس پر ڈبل کلک کریں۔










Thursday, March 19, 2009

یوم حشر


دنیا کے سرکشوں کی یہاں گردنیں ہیں خم

خالی نہیں غرض سے مرا انکسار بھی






یوم حشر


زیرِفلک رہے نہ نشانِ مزار بھی

کچھ یادگارِ گردش لیل و نہار بھی


ٹھہرے تڑپ تڑپ کے دلِ بیقرار بھی

مجبوریوں کے ساتھ رہے اختیاربھی


شاید یہ مٹنے والوں کی ہو یادگار بھی

کچھ ساتھ لیتے جائے خاکِ مزاربھی


پڑھتا ہے کوئی آنکھ میں آنسو بھرے ہوئے

بارِگراں ہے اب ہمیں لوحِ مزار بھی


کرتا ہوں یاد گزری ہوئی اب صعوبتیں

اسپر ہے زندگی کا مری انحصار بھی


تنہا گناہگار نہ جائینگے حشر میں

ساتھ     انکے ہوگی رحمتِ پروردگار بھی


گھبرائے نہ اسکی طوالت کو دیکھکر

ہے داستانِ غم کا مری اختصار بھی


دنیا کے سرکشوں کی یہاں گردنیں ہیں خم

خالی نہیں غرض سے مرا انکسار بھی


اٹھتا ہے پائے عزم سوئے منزلِ مراد

مانا ہے سر پہ گردشِ لیل و نہار بھی


کچھ ماورائے عقل نہ تھی یادِ رفتگاں

گر جانتے حقیقتِ شمع مزار بھی


خوگرِ ستم کا دلکو بنالینگے ہم کبھی

بدلیں گے فطرتِ فلک کج مدار بھی


یوں ٹوٹنا حباب کا دیکھا نہ جائیگا

ہوگا خیالِ ہستیء ناپائیدار بھِی


..........

ممکنات

کھلایا گل، قفس میں یہ نیا مشقِ تصور نے

کہ اب پھرنے لگی تصویر آنکھوں میں گلستانکی





ممکنات


فریب سعیء لاحاصل ہے جو کوشش ہے انساں کی

گمانِ منزلِ ہستی میں غافل راہ امکان کی


تخیّل نے مرے دم بھر جو سیرِ بزم امکاں کی

فروزاں لا مکاں میں شمع دیکھی عقل انسانکی


نہ پوچھ اے ہمنفس کیوں نظم ہستی میں تغیّرہے

یہ اک تمہید ہے غافل، مرے جذباتِ *پنہانکی


نفس کی آمد و شد نے کمی جب کی ہے اے ہمدم

لگی ہے جھلملانے شمع اُسدم بزمِ امکانکی


اگر اے؛ دیدہء حسرت وہ تجھسے شرحِ غم پوچھیں

بیاں *تفصل کردینا ستمہائے فراواں کی


ہمارے دیدہء تر کے وہ ہر آنسو سے ظاہر ہے

اداسی کہہ رہی ہے دلسےجوگورِغریباں کی


مریضِ غم سے کیا جانے کہا کیا صبح فرقت نے

بس اِک تصویر تھا وہ دم زدن میں یاس و حرمانکی


کبھی زیرِ فلک تکمیلِ شرح بیکسی ہوگی ِ

کبھی تو داد چاہیگی زمیں گورِ غریباں کی


کھلایا گل، قفس میں یہ نیا مشقِ تصور نے

کہ اب پھرنے لگی تصویر آنکھوں میں گلستانکی


ازل سے سوئے ہستی جب آیا، بند تھیں آنکھیں

مری فطرت کو تھی مدنظر تکمیل امکاں کی


کبھی اے چشم حسرت ہم بھی سرگرمِ تماشا تھے

ییہ کیا معلوم تھا دیکھینگے بربادی گلستاں کی


اے اترا کے چلنے والے کچھ اسکی خبر بھی ہے

کہ آخر خاک دامنگیر ہے گورِ غریباں کی


تجھے اے انقلابِ دہر کیا نیرنگ آتا ہے

نظر آتی ہے ان پھولوں میں بربادی گلستانکی


الگ سب سے تغزّل میں تمہارا رنگ رہتا ہے

جدا رہتی ہے گو کوشش، مصور ہر غزلخواں کی


 پنہانکی= پنہاں کی*





احساس


مری اس عالمِ غربت میں ہے یہ شانِ استغنا

جہاں کی سلطنت زیرِ نگیں معلوم ہوتی ہے





احساس ۔۔

گھڑی اب کامیابی کی قریب معلوم ہوتی ہے

مری تکلیف راحت آفریں معلوم ہوتی ہے


مرے صدماتِ پیہم نے کیا گردابِ غم پیدا

کہ ہر موجِ نفس اندوہگیں معلوم ہوتی ہے


ان آنکھونسے فلک کی گردشیں وہ ہمنے دیکھی ہیں

نگاہِ لطف بھی ظلم آفریں معلوم ہوتی ہے


زمانہ کے تغیّر نے اسے ایسا بدل ڈالا

کہ غیراب حالت قلب حزیں معلوم ہوتی ہے


مخالف ہے جہاں کیا کہکشاں کو دیکھکر خوش ہوں

کسی کو مجکو یہ چینِ بجبیں معلوم ہوتی ہے


نوازش ہے تری بے مِہریء اہلِ وطن مجھ پر

فلک مجکو وطن کی اب زمیں معلوم ہوتی ہے


مری اس عالمِ غربت میں ہے یہ شانِ استغنا

جہاں کی سلطنت زیرِ نگیں معلوم ہوتی ہے


نظر میری لڑی ہے اسکی رحمت سے دمِ آخر

امید افزا نگاہِ واپسیں معلوم ہوتی ہے


مصور عاقبت بینی سے کیا ہوگا تجھے حاصل

گھڑی جو آنیوالی ہے، کہیں معلوم ہوتی ہے

شاعری کیا ہے ! ۔

شاعری کیا ہے، فقط تصویر جذباتِ نہاں

اور اسکی ہر ادا پروردہء اعجاز ہے





شاعری کیا ہے ! ۔

ہمنفس بربادیء گلشن کا اسمیں راز ہے

دیکھتا ہوں رنگِ گل بھی مائل پروازہے


محفل عالم میں کیا امید سامانِ نشاط

آشنائے درد، آوازِ شکستِ ساز ہے


لے چلا ہے قبر میں تجھکو فریب آرزو

اور غافل تو ابھی تک مائل آغاز ہے


بیخبر ہے تو فریبِ منزل مقصود سے

جسکا ہوانجام ناکامی وہ کیا آغاز ہے


اک ںطر حسرت سے سوئے آشیاں پھر دیکھ لے

عندلیبِ زار تجھکو حسرتِ پرواز ہے


خاک میں ملکر ہوئی تکمیلِ شرحِ بیکسی

مِٹنے والےہستیء فانی کا یہ بھی راز ہے


مٹ نہ جائے دل سے احساسِ مسرّت ہی کہیں

اے وفُور بیکسی یہ کیا ترا انداز ہے


چشمِ باطن ہو تو سیرِ عالمِ اسرار کر

کائناتِ دل کا ہر ذرّہ جہانِ راز ہے


شاعری کیا ہے، فقط تصویر جذباتِ نہاں

اور اسکی ہر ادا پروردہء اعجاز ہے


تو نوائے درد سے ہے آشنا تو یہ بتا

کیوں مصور محفلِ عالم میں سوزوساز ہے





Sunday, March 15, 2009

دل کا دروازہ


عشق کی ہر افتادگی، ہوگئی باعثِ عروج
یوسف دل مرا گرا، لیکے فلک کو چاہ میں


دل کا دروازہ


آنکھیں ہوں ترجمانِ دل حسن کی بارگاہ میں
لطف ہے گفتگو کا کچھ سلسلہء نگاہ میں

کیوں رہیں محو جستجو، کشمکش نگاہ میں
منزل عیش ہے نہاں، اپنے دلِ تباہ میں

لطف و غضب میں یار کے، اپنی حیات و موت ہے
جی اٹھے اک نگاہ میں، مرگئے اک نگاہ میں

کھینچ گیا چشم دہر میں، نقشہء کائنات غم
جذبِ اثرتھا کسقدر، یاس بھری نگاہ میں

رہرووں کا نشاں نہیں، ہائے وہ چل بسے کہیں
ملتے ہیں ہرقدم پہ ہم نقش قدم سے راہ میں

منزلیں راہِ عشق کی، طے ہوئیں ہائے کسطرح
اٹھے جو ایک آہ میں، بیٹھ گئے اک آہ میں

شرکت خوں بھِی آج ہے اشکونکے کے ساتھ ساتھ کچھ
دل بھِی مرا شریک ، ہے قافلہء تباہ میں

مدّ نظرجو حسن کی جلوہ گری اسے ہوئی
کھینچ دی اس نے شکل بھی دائرہء نگاہ میں

کیا ہوسُکوں دلِ حزیں، رہتے ہیں زیرِ چرخ کہیں
ٹوٹ پڑے فلک وہیں، آئے اثر جو آہ میں

ہونہ سکا جو عمر بھر، کرنہ سکے جو چارہ گر
کہہ گیا وہ مریضِ غم، یاس کی اک نگاہ میں

چھیڑ نہ اب خیالِ یار، خون جو تھا کیا نثار
حسرت و یاس کے سواکیا ہے دل تباہ میں

مجھ میں نہیں وفا درست!، غیرمیں بجادرست
آپنے جو کہا، درست ہے وہی اب نگاہ میں

وضع کا اپنی پاس کچھ، غیرت حق کا کچھ خیال
کسکی پناہ لیجیے، عالمِ بے پناہ میں

جلوہ ہے اسکا ہر کہیں، چشمِ حقیقتِ آفریں
کیا وہی جلوہ گر نہیں، پردہء مہروماہ میں

ناز ہے اسکو تخت پر، اسکو ہے بوریے پر فخر
فرق جو ہے تو ہے یہی ایک گداوشاہ میں

سیرِ فضائے دہر میں محو کچھ ایسے ہوگئے
عمر تمام ہوگئی، ہم رہے اشتباہ میں

عشق کی ہر افتادگی، ہوگئی باعثِ عروج
یوسف دل مرا گرا، لیکے فلک کو چاہ میں

اسکے ظہورکو بھی وہ سمجھے تصورات ذہن
گم ہوئے ایسے فلسفی مسئلہء نگاہ میں

شعرمیں بھِی مصور اب کرنے لگی مصوّری
بات وہ تمنے نظم کی، تھی جو میری نگاہ میں




Design & Content Managers

Design & Content Managers
Click for More Justuju Projects