ہر ایک قلب کی دھڑکن میں ہے یہی کھٹکا
سکونِ دل تو مرا وجہ اضطراب نہیں

قناعت
قناعتوں کا مری دہر میں جواب نہیں
کہ مجھ سا کوئی زمانہ میں کامیاب نہیں
نظر سے دور ہوئے بحریاس کے منظر
کہ تیری موج میں کچھ درس انقلاب نہیں
شکستگی ہے عیاں اسکی بحر ہستی سے
حریف موج حوادث دل حباب نہیں
دیار حق میں یہ باطل پرستیاں ایدل
ارے یہ عین حقیقت ہے کوئی خواب نہیں
نفس نفس ہے مرا آج حاصلِ ہستی
یہ کیا غضب ہے کہ عالم میں انقلاب نہیں
نظر میں شہر خموشاں کا پھر گیا نقشہ
وہ خامشی ہے کہ جسکا کوئی جواب نہیں
زمانہ مجھکو ہدف کس لئے بناتا ہے
ابھی تو خیرسے عالم میں انتخاب نہیں
مری نظر سے مرے دلکی دیکھئے حالت
یہ ایک سکونِ دوامی ہے اضطراب نہیں
کوئی شکستہ دلی اسکی پوچھے دل سے مرے
کہ اک جہانِ تمنّا ہے یہ حباب نہیں
خموش اب دل ہنگامہء آفریں کیوں ہے
یہ سن رہا ہوں کہ ہستی میں انقلاب نہیں
حسرتوں سے زمانہ بھرکی کھودیا مجھکو
جہانمیں کیفیت غم ترا جواب نہیں
ہر ایک قلب کی دھڑکن میں ہے یہی کھٹکا
سکونِ دل تو مرا وجہ اضطراب نہیں
نہ کھیل اسکو سمجھ دیکھ ساکن کشتی
ارے یہ دل ہے مرا یہ کوئی حباب نہیں
مصور اپنی میں ناکامیوں پہ بھی خوش ہوں
وہ کامیاب یہاں ہے جو کامیاب نہیں
HomePage ہوم پیج
No comments:
Post a Comment