ساکنِ کشتیء ایماں ہے تو پھر اے ناخدا
بحرِ طوفان خیز میں بھی حسرتِ ساحل نہ ہو

امتیاز
یہ نہیں ممکن کہ ہم میں جذبہء کامل نہو
رہبرمنزل نہیں تو رہبر منزل نہ ہو
دیکھکر اے رہرو راہ محبّت دیکھکر
رہگزر کا ذرّہ ذرّہ کائناتِ دل نہو
جستجوئے منزلِ راحت میں گزری زندگی
یوں کوئی یا رب رہینِ سعیءلاحاصل نہو
ساکنِ کشتیء ایماں ہے تو پھر اے ناخدا
بحرِ طوفان خیز میں بھی حسرتِ ساحل نہ ہو
جارہی ہے عرش پر اک دل دکھے کی اب فغاں
آسماں کی قوّتو، سنبھلو، ابھی حائل نہو
خاک ہی میں ہم ملادیں اسکو! کعبہ کی قسم
دل سے اپنےکفر کی ظلمت اگرزائل نہ ہو
اب زمانہ کے تغیّرسے ہوا ہوں آشنا
میں یہ کہتا ہوں کہ آساں ہی مری مشکل نہ ہو
اے نشاطِ بزم ہستی، ماسوائے یادِ دوست
عمر کا حاصل تو یہ ہے کچھ ہمیں حاصل نہو
دَیر سے دستِ اعانت وہ اٹھا سوئے حرم
حق کو لازم ہے کہ اب شرمندہء باطل نہ ہو
ہوگیا ہے اِک تعلّق سا مجھے اب درد سے
اب کوئی ہمرازِ کیفِ اضطرابِ دل نہو
تیری اس ہمّت کے صدقے، رہرو راہِ وفا
لاکھ ہوں دشواریاں، گر جادہء مشکل نہ ہو
خاک ہو بزم سخن میں پھر تمیزِ نیک و بد
جب مصور امتیازِ ناقص و کامل نہو
No comments:
Post a Comment