کرتے ہر ذرہ میں بنا اک دل
کچھ زمانہ ہی سازگار نہیں

امیدِ کرم
جلوہ ہائے رخ نگار نہیں
دل کو اب حسرتِ بہار نہیں
حسرتِ سیر لالہ زار نہیں
اب میں شرمندہء بہار نہیں
چشم عبرت سے دیکھتا ہوںمیں
کچھ زمانے کا اعتبار نہیں
یہ ہجومِ امید و جوشِ نمو
کوئی آسودہء بہار نہیں
خلشِ درد مٹگئی دل سے
غمِ فرقت بھی پائیدار نہیں
اسکی رحمت سے، اپنے عصیاں سے
ہائے کس دن میں شرمسارنہیں
دل مرا اے خیالِ ملالِ ہم جنسی
کسکی حالت پہ اشکبار نہیں
خون ہی میری حسرتونکا ہے
یہ گلستانمیں لالہ زار نہیں
اے فلک خاک پائے یار نہیں
تجھ سے مٹجائوں وہ غبارنہیں
کرتے ہر ذرہ میں بنا اک دل
کچھ زمانہ ہی سازگار نہیں
تجھپہ جیتے ہیں اے امید کرم
کچھ ستمہائے روزگار نہیں
وہ مصور ہے فیض کا مبداء
کون ہے جو امیدوار نہیں
No comments:
Post a Comment